وارداتِ قلبیہ

29 September 2015
Comments: 0

: وارداتِ قلبیہ

فرمایا کہ قرآن میں انسانوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا، ایک تو نافرمان ہیں جس کو اصحاب الشمال کہا گیا ہے اور ایک عام مسلمان جو اخلاص کے ساتھ دین پر عمل پیرا ہوں ان کو اصحاب الیمین اور صالحین کہا جاتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر پھر مقام سابقون السابقون اور مقربون کاہے جو خاص اولیاء اللہ ہیں ۔جیسا کہ ارشاد ہے الذین انعم اللّٰہ علیھم من النبین و الصدیقین و الشہداء والصالحین تو سب سے اُونچا مقام تو انبیائے کرام کا ہے جن کا مشاہدۂ حق اور مشاہدۂ مغیبات عینی ہو۔اس کے بعد صدیقین ہیں جن کا مشاہدہ قریب کاہوتا ہے اور پھر شہداء ہیں ۔ شہداء ایک تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے قتل ہوجانے والوں کو کہتے ہیں ۔اور معارف القرآن میں حضرت مفتی محمد شفیع صاحب نور اللہ مرقدہٗ نے لکھا ہے کہ شہدا ء اولیاء اللہ کا ایک گروہ ہے جن کا مشاہدہ بعید یعنی دور کا ہوتا ہے اور صالحین کا مشاہدہ نہیں ہوتا بس دین پر عمل کرنے والے نیک لوگ ہوتے ہیں ۔ تو صالحین سے آگے بڑھ کر شہداء اور صدیقین اور مقربین کے مقامات کے لئے صوفیاء آدمی کے قلب پر کام کرتے ہیں جس میں کیفیت احسان کو حاصل کرنے کی کوشش کراتے ہیں اور یہ وارداتِ قلبیہ ہیں کہ عمل کرتے وقت ایسا دھیان ہو گویا میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں اور یہ نہ ہو تو کم ازکم یہ بات حاصل ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ ہمارے شیخ حضرت مولانا محمد اشرف سلیمانی صاحب رحمتہ اللہّٰ علیہ ایک شعر پڑھا کرتے تھے ۔

آتے ہیں خیالوں میں نگاہوں میں دلوں میں
پھر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ ہم پردہ نشین ہیں

: ایک اور شعر پڑھا کرتے تھے

تم میرے پاس ہو تے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »