ﷲ والے بزرگ کی کرامت

29 September 2015
Comments: 1

ﷲ والے بزرگ کی کرامت

فرمایا کہ ہمارے گاؤں کی ایک محترم خاتون تھیں، اُن کے لئے میں نے 1995ء میں حجِ بدل کیاتھا۔ انھوں نے پیغام بھیجا کہ ڈاکٹر فدا سے کہو کہ تیاری کرے اور میرا حجِ بدل کرے۔ اُن کے گردے ناکارہ ہو گئے تھے اور کرانک رینل فیلیر کی مریضہ تھیں۔ میں اُن کے لئے دُعائیں مانگتا رہا، وہاں پر بھی اور یہاں پر بھی، کہ یا اللہ! شفا دے دے۔ ایک دفعہ محکمۂ مالیات نے کچھ میڈیکل بل پاس کرنے سے پہلے میرے پاس رائے کے لئے بھیجے۔ ایک بل کی مالیت بہت زیادہ تھی۔ یہ بل ایک ڈاکٹر صاحب کی والدہ صاحبہ کا تھا جن کے گردے فیل تھے۔ چونکہ اس سے مریض پر بہت خرچہ ہوتا ہے اس لئے اس کا بل میں نے پاس کروا لیا۔ اس کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ان کا بیٹا آیا۔ میں نے کہا مجھے تو نہیں پتہ تھا کہ آپ کا ہے لیکن چونکہ آپ کا حق تھا اس لئے میں نے کہہ دیا کہ ا س کو پاس کریں۔ میں نے اس سے پوچھا کہ اب آپ کی والدہ صاحبہ کا کیا حال ہے؟ اس نے بتایا کہ اب اللہ کا فضل ہو گیا ہے۔ چراٹ میں ایک بزرگ تھے، انھوں نے ایک پودا بتایا، اس کی جڑیں ہم نے نکالیں، ان کو ابالتے ہیں اور پلاتے ہیں اور ڈائلیسس سے ہم فارغ ہو گئے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہمارا بھی ایک مریض ہے ہمیں بھی بتا دیں۔ اس نے کہا کہ یہ ہر جگہ اُگتا ہے، اس نے مجھے یونیورسٹی میں وہ پودا دکھایا۔ ہم نے نکالا اور تین مریضوں پر اس کو استعمال کیا، دو کو فائدہ ہوا۔ یوریا ۰۲۱ سے ۰۶ پر آگیاتھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ یہ پودا زمین پر موجود تھا لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا، یہ اُن بزرگوں کی کرامت تھی یا انہوں نے دُعا مانگی کہ اللہ نے اُن پر کھول دیا۔ ان کے ذریعے ہم تک پہنچ گیا۔


قرآن ایک ایسامعجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال سے انسانوں کو عاجز کررکھا ہے

فرمایا کہ قر آن ایک ایسا معجزہ ہے کہ اس نے چودہ سو سال سے انسانوں کو عاجز کررکھا ہے ۔ انسان چاند پر پہنچ گئے اور کمپیوٹر اور قسم ہا قسم کی چیزیں ایجاد ہوگئیں ۔ انسان محیرالعقول کام کرتے ہیں کہ ہوا میں چلتے ہوئے جہاز کی ری فیولنگ کرتے ہیں یعنی اس میں پٹرول ڈالتے ہیں اور چلتی ہوئی مشین کو چاند پر یہاں سے ٹھیک کرتے ہیں ۔ ریموٹ کنٹرول سے اس کو چالو کرتے ہیں، روکتے ہیں لیکن قرآن پاک کا جواب نہ لاسکے، عاجز کیا ہوا ہے۔

One response on “ﷲ والے بزرگ کی کرامت

  1. ZAHID LATIF says:

    وہ پہودہ کنسا ھے?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »