ملفوظاتِ شیخ

29 September 2015
Comments: 0

Tags: ,

برکت والی بیعت اور تربیت والی بیعت

مجلسِ ذکر کے اختتام پر ایک آدمی کا بیعت کے متعلق سوال اور حضرت والا کاجواب
سوال: میں حضرت مولانا اشرف صاحب رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھا، پھر لاہور چلا گیا، مولانا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا انتقال ہوا تو لاہور میں ایک عالم سے پوچھا جو کہ تصوّف سے واقف تھے، انہوں نے کہاکہ تھانوی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جب شیخ کی موت ہوجائے تو تین دن کے اندر اندر دوسرے سے بیعت ہوجائے۔ مجھے فکر ہوئی، میں سیالکوٹ میں بیعت ہوگیا۔ پھر وہ شیخ بھی فوت ہوگئے، پھر میں لاہور میں اشرفیہ خانقاہ گیا، وہاں عبدالمقیم صاحب ہیں جو خلیفۂ مجاز ہیں اس خانقاہ کے اور اس کو چلاتے ہیں، انہوں نے بھی فرمایا کہ تین دن کے اندر بیعت ہونا چاہیے، وہاں آیا کرتے تھے حکیم اختر صاحب، پھر میں نے ان سے بیعت کی۔
جواب: عرض یہ ہے کہ آپ نے ساری بیعتیں برکت والی کی ہیں، تربیت والی بیعت آپ نے نہیں کی۔ تربیت والی تو تب ہوتی کہ آپ بار بار مشورہ کر کے جو ترتیب حضرات بتا تے اس سے گزرے ہوتے، وہ آپ کی نہیں ہوئی ہے۔ اب آپ کو تربیت سے گزرنا چاہیے۔
فرمایا کہ ہماری بیعت ۱۹۶۹ ؁ء میں حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ دہلی والے بزرگوں سے ہوئی تھی جو کہ تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر تھے، بہت کامل اور بہت پائے کی شخصیت تھے۔ تبلیغ والے حضرات بھی صرف برکت کی بیعت کراتے تھے کہ بیعت کا ایک نام ہو جائے باقی جیسے ہم دوڑاتے ہیں ایسے ہی کام کرتے رہیں، اُس طرف کو نہ جائیں۔ بہر حال ہم نے پوچھا تو پتہ چلا کہ تربیت کرانی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ حضرت جیؒ دہلی میں ہیں اور ہم یہاں ہیں توتربیت کیسے ہو گی؟ انہوں نے کہا خط کے ذریعے سے ہو سکتی ہے۔ ۱۹۶۹ ؁ء سے ۱۹۷۱ ؁ء تک میں خط لکھتا رہا اورحضرت جی رحمتہ اللہ علیہ خط کا جواب عنایت فرماتے رہے۔ ۱۹۷۱ ؁ء میں ہوگئی جنگ، جنگ کے بعد پاکستا ن ہندوستان کے درمیان خط و کتابت بند ہوگئی۔ ہم نے کسی طریقے سے حضرت جیؒ سے پچھوایا کہ آپ سے رابطہ ممکن ہونا مشکل ہوتا ہے تو یہاں حضرت مولانا اشرف صاحبؒ ہوتے ہیں کیا ہم ان سے اصلاح کی باتیں پوچھ لیا کریں؟ حضرتؒ نے فرمایا کہ ضرور پوچھا کریں۔ حضرت مولانا محمد اشرف صاحب سلیمانی پشاوریؒ کے پاس میں نے جانا آنا شروع کیا۔ کچھ عرصے کے بعد بڑا دل لگ گیا۔ میں نے حضرت مولانا محمد اشرف صاحب سلیمانی پشاوری رحمتہ اللہ علیہسے کہا کہ اگر ہم حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ کی بجائے آپ سے بیعت کرلیں ….تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بیعت آپ کی وہی ہونی چاہیے البتہ تربیتی باتوں کا مشور ہ آپ مجھ سے کرتے رہیں، میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تو حضرت مولانارحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی اجازت ملنے تک میں نے ان سے بیعت نہیں کی۔ تربیت اِن سے لی ہے بیعت حضرت جیؒ کی ہی تھی۔ یہاں تک کہ ۱۹۸۰ ؁ء میں حضرت مولانا صاحب رحمتہ اللہ علیہنے بیعت کی اجازت دے دی۔ اس وقت حضرت جی صاحبؒ زندہ تھے پھر حضرت جیؒ اور مولانا اشرف صاحبؒ دونوں کی وفات ۱۹۹۵ ؁ء میں ہوئی ہے۔ مئی ۱۹۹۵ ؁ء میں حضرت جی مولانا انعام الحسن صاحبؒ کی اور ستمبر ۱۹۹۵ ؁ء میں حضرت مولانا اشرف صاحبؒ کی وفات ہوگئی۔
بیعت داخلہ ہے اور اصل بات اس کے بعد تربیت ہے، تربیت کے دو رانئے سے گزرنا چاہیے۔بندہ کے کتابچہ’ اصلاحِ نفس‘ میں جو درجہ اوّل، دوئم، سوئم لکھا ہے، یہ بڑی محنت سے لکھا ہے۔ کوئی آدمی اس کی پابندی شروع کر دے، آج سے نیت کرلے کہ میں نے درجہ اوّل کی پابندی شروع کردی اور چھ مہینے میں میں اس کو مکمل کروں گا۔ پھر یہ دیکھے کہ چنددن کے بعد دل کا حال کیسے بدلتا ہے، اور اگر کوئی کام ہی نہ کرے تو آدمی کیا کہہ سکتا ہے۔ مجلس میں آئے جائے، اسی طرح بیان سن لیا، اجرو ثواب ضرور ہوجاتا ہے، کچھ نہ کچھ فائدہ بھی ہوجاتا ہے لیکن آدمی خو د جا کر پھر کام نہ کرے تو اس سے بات نہیں بنتی۔ ایک دن ورزش کرکے آدمی ایک مہینہ بیٹھ جا یا کرے تو اس سے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
ہمارے ایک ساتھی طارق جلالی صاحب دل کے مریض ہوگئے، کہا کرتے تھے کہ ڈاکٹروں نے انہیں واک (پیدل چلنا) کرنے کا کہا، انہوں نے واک شروع کر دی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ جب شروع کرو گے تو فائدے کا مہینے بعد پتہ چلے گا کہ فائدہ ہوا لیکن جب چھوڑ وگے تو تین دن میں پتہ چلے گا کہ نقصان ہو گیا۔ طارق جلالی صاحب نے کہا کہ واقعی اس مشق کو کیا تو مہینے بعد فائدہ ہوا، اب تین دن چھوٹ جاتی ہے تو پتہ چل جا تا ہے کہ نقصان ہوگیا، کمزوری محسوس ہوجاتی ہے۔ اسی طرح رُوحانیت والے بھی کہتے ہیں کہ ایک دن بلا عذر آدمی سے ناغہ ہوگیا، ایک دن، دو دن، تین دن ناغہ ہو گیا تو چوتھے دن اس کی برکات زائل ہوجاتی ہیں، پھر دوبارہ نئے سرے سے کوشش کرنی ہوتی ہے، اور اگر عذر سے ہوا اور دل میں اس کو غم ہوا کہ بیماری تھی نہ ہو سکا، سفر تھا نہ ہو سکا، وفات ہوگئی تھی کسی کی، بچہ بیمار تھا نہ ہوسکا، اس کو افسوس ہوتا رہا تو اس کی برکت بحال رہتی ہے۔ اس میں دوبارہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کرنا لازمی نہیں ہوتا البتہ تربیت لینا لازمی ہے۔ پچھلا سبق پورا کرکے، پچھلے احوال بتا کر آگے کا آدمی مشورہ کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Translate »