:تازہ ترین

ساتھی سلسلے کا خاص نقش جو بیماری،حسد،نظرِبد،جادو،جنات اور دشمنوں سے حفاظت کے سلسلے میں مجرب ہے رابطہ سیکشن ’ای میل’ کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

click here گذشتہ سائٹ کو ملاحظہ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

۲۰۱۶   اجتماع اکتوبر

[۲۰۰۹-۱۹۹۷] تمام بیانات


CD-1/ ۲۰۰۲ - ۱۹۹۷ : .rar | torrent
CD-2/ ۲۰۰۴ - ۲۰۰۳ : .zip | torrent
CD-3/ ۲۰۰۵ : .zip | torrent
CD-4/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-5/ ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-6/ ۲۰۰۷ - ۲۰۰۶: .zip | torrent
CD-7/ ۲۰۰۷: .zip | torrent
CD-8/ ۲۰۰۸ جنوری تا جون: .zip | torrent
CD-9/ ۲۰۰۸ جولائی تا دسمبر: .zip | torrent
CD-10/ ۲۰۰۹ جنوری تا جون: .zip | torrent

تازہ ترین

title

7 MBTajaliay e Anwar

تمام غزالی ۔۲۰۰۲۔۲۰۱۴

Title Ghazali JANUARY 2015 - Copy_1_Page_01 257 MB[2002-2014]

تازہ غزالی

ghazali-november-2016_page_01 1 MBNovember-2016-updtd-pg-7

تربیت تو میرے بھائی اپنے نفس سے کُشتی ہے
فرمایا کہ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مدینہ منورہ سے خطوط لکھے اور ایک تحریر شائع فرمائی اور سارے مدارس کو بھیجی اور سارے مدارس سے یہ درخواست کی کہ اگر آپ کے مدارس میں سلاسل تصوف کا رواج نہیں ہوگااور بیعت کا اور تربیت کا رواج نہیں ہوگا تو آپ کے علماء پکے نہیں ہوں گے۔ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو خط ملا تو انھوں نے اپنے دونوں بیٹوں مفتی تقی عثمانی صاحب اور رفیع عثمانی صاحب سے کہا کہ برخوردار تم تو جا کر ڈاکٹر عبدالحئی عارفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہو جاؤکیونکہ مفتی تو تم ہو اور شیخ الحدیث بھی ہو لیکن اس علم کے بعدجو نفس کے اندر ذاتِ ذوالجلال کا تعلق قرار پکڑتا ہے اور نفس کی جو خباثتیں اور گندگیاں ٹوٹتی ہیں جس کو فنا کہتے ہیں اور اس کے اندر نیک خصائل اورنیک صفات جب آکرجڑ پکڑتی ہیں جس کو کہ بقا کہتے ہیں،یہ تو اُس آدمی کو حاصل ہے۔ واقعی ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نہ تو شیخ الحدیث گزرے نہ مفتی گزرے لیکن نسبتِ باطنیہ کے ماہرین کہتے ہیں کہ مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے ڈاکٹر عبدالحئی صاحبرحمۃ اللہ علیہ کا قدم اگر آگے نہیں تھا تو کسی صورت پیچھے بھی نہیں تھا۔ بندہ نے وفات کے بعد کئی بزرگوں کو خواب میں دیکھا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ہوئی تو میں نے دیکھا کہ پشاور یونیورسٹی ہے اور اس میں ایک ایسا جلوس آرہا ہے جس طرح کوئی بہت بڑا شہنشاہ کسی مملکت کا آرہا ہو۔ گاڑیاں آگے پیچھے اور جلوس میں جس طرح موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں موٹریں ہوتی ہیں۔ قسم ہا قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، ان کے محافظ ہوتے ہیں، گارڈ ہوتے ہیں، ایک شور و غوغا ہے۔ میں نے کہا یا اللہ! یہ تو کوئی بہت ہی بڑا آدمی آرہا ہے، پیچھے دیکھا تو ڈاکٹر عبدالحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سفید کپڑوں میں آرہے ہیں اور ہماری مدینہ مسجد جس میں ہمارے سلسلے کے سارے کام ہوتے ہیں اس کے پیچھے سارا جلوس ٹھہر گیا اور کاروائی شروع ہوگئی۔ لہٰذا مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ ایک تو اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ ڈاکٹر صاحبؒ اللہ کے بہت مقبول بندے دنیا سے اُٹھ گئے اور دوسرا یہ کہ ہمارے سلسلے میں ان کا فیضان آئے گا۔ سوچا کیسے آئے گا؟ ان کی کتاب اسوۂ سولِ اکرمﷺ پڑھی تو بہت پسند آئی تو اسے ہم نے سلسلے کے نصاب میں شامل کیا۔ ہمارے تین درجے کے نصاب میں درجہ دوم میں یہ کتاب ہے۔ پھر ’’بصائر حکیم الامت‘‘ جو پڑھی تو سبحان اللہ، یہ کتاب تو تصوف کی ایسی مہم بحث ہے جو پرانے بزرگوں کی گویا یادگار ہے۔ تو دونوں صاحبزادگان کو مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تربیت کے لئے وہاں بھیجا۔ تربیت تومیرے بھائی! اپنے نفس سے کشتی... کشتی کیا بلکہ دِھینگا مشتی ہے اور رگڑا رگڑی ہے اور پیہم کوشش ہے۔ تربیت حاصل کرنے کے بعد پھر تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہٗ نے ہی ڈاکٹر عبدالحئی صاحب کی سوانح لکھی ہے جو کہ قریباً ۹۰۰ صفحے پر مشتمل ہے۔
تُوخاک میں مل تُو آگ میں جل، جب اینٹ بنے تب کام چلے
اِن کچی پکی بنیادوں پر تعمیر نہ کر تعمیر نہ کر
بعض کم فہم لوگ دوسرے دینی کاموں کی مخالفت کرنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں
فرمایا کہ کوہاٹ کے ایک ڈاکٹر صاحب سلسلے میں بیعت ہوئے، ان کو ایک امیر صاحب ٹکر گئے۔ اس نے کہا کہ اوہو، تُو ایسے آدمی سے بیعت ہوگیا ہے کہ چار چار آنے پر اس کی لڑائیاں ہوتی ہیں اور چار چار آنے کیلئے لڑرہاہوتا ہے اور اس سے تُو بیعت ہوگیا ہے۔ واقعی میں چارچار آنے کی خاطر لڑائیاں کرتا ہوں کیونکہ نہ چار آنے کسی کودیتا ہوں بغیر کسی اُصول کے اور نہ چار آنے کسی سے لیتا ہوں اور بعض اوقات لڑائی کرکے چار آنے لے لیتا ہوں اور پھر کہتا ہوں کہ یہ روپیہ لے لو مگر یہ چار آنے میں نے نہیں چھوڑنے تھے کیونکہ یہ اُصول کی بات تھی، اس سے معاشرہ خراب ہوتا ہے، قانون خراب ہوتا ہے۔ خیر یہ آدمی بیعت سے فارغ ہوگیا۔ اس کا ایک ساتھی ماہوار اجتماع میں آیا جس میں میں نے کہا کہ اگرکوئی آدمی بیعت ہونے کے بعد اتنا دل میں رکھے ہوئے ہو کہ میں بھی سلسلے میں ہوں تو کچھ نہ کچھ فائدہ اس کو بھی پہنچتا رہتا ہے۔ وہ چلا گیااور اُس ڈاکٹر سے کہاتو اس نے دل میں بیعت بحال کرنے کا اِرادہ کر لیا۔ پھر اللہ کی شان کہ اس کا معمولی تار لگا ہواتھا، دوبارہ آنے جانے کی اس کو توفیق ہوئی اور اللہ نے پوری زندگی ہی بدل دی۔ میں نے کہا ماشاء اللہ امیر صاحب تو نہ اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا آپ کو اور نہ ہمارے ساتھ چھوڑتا تھا۔ ہمارے ساتھ سے ہٹانے کو تو مقدس فریضہ سمجھتا تھا کہ دوسرے دینی کاموں کی مخالفت کرنا مقدس فریضہ ہے اور اپنے ساتھ بھی نہیں لے جاسکتا تھا۔تواُس آدمی کو ایسی ترتیب پر چھوڑ رہا تھا کہ بس آزاد ہو، کسی کا نہ ہو اور کوئی فائدہ ہی نہ ہو۔
خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے
فرمایا کہ ہمارے یہاں ایک پروفیسر صاحب نے امام صاحب کو ڈانٹا تو مجھے بڑی ناگواری ہوئی۔ بس پروفیسر صاحب گیا اوراُس کو کمر کا درد ہو گیا اور جماعت کی نماز میں آنے سے ہی رہ گیا۔ ایک دفعہ میں گاؤں گیا تو پانی کی بہت تکلیف تھی، بارشیں نہیں ہو رہی تھیں، کنویں خشک ہو رہے تھے اور لوگ کنوؤں میں مزید آٹھ آٹھ، دس دس فٹ کھدائی کروا رہے تھے۔ ہمارے گاؤں کا ایک آدمی تھاجس کا وقت انگلینڈ میں گزرا تھا اور دہریہ ہو کر آگیا تھا۔ دیہاتی لوگوں نے اُس کی انگریزیت کی وجہ سے اُس کا نام اینٹی پینٹی رکھا ہوا تھا۔ نمازوں کے خلاف باتیں، روزوں کے خلاف باتیں، دین کے خلاف باتیں اس کا مشغلہ تھا۔ اس کا بھی کنواں خشک ہو گیا اور وہ اس کی کھدائی کروا رہا تھا۔ ہمارے امام صاحب کا بیٹا مسجد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھاتا تھا، اُس نے اِس آدمی کے بچے کی پٹائی کر دی تو یہ آدمی آیا اور امام صاحب کے بیٹے کو بہت بے عزت کیا۔ پھر وہ کنواں کھودنے پر لگے مزدوروں کو دیکھنے کے لئے گیا، اس نے کہا کہ یہ مزدور ٹھیک کام نہیں کرتے، میں خود دیکھنے نیچے اُتروں گا۔ جب اسے اتارنے لگے تو آدمی کے ہاتھ سے کنویں کی چرخی چھوٹ گئی، اینٹی پینٹی سیدھا جا کر نیچے گرا، سرمیں چوٹ لگی اور مر گیا۔ دوسرے بھائی نے کہا کہ پیچھے میں اُترتا ہوں۔ اس کو اُتار رہے تھے تو آدھے میں وہ بھی چھوٹا اور اِس کی پسلیوں پرجا کر گرا۔ تیسرے آدمی نے چرخی کو روکنے کی کوشش کی، اس نے جوں ہی پکڑا تو چرخی نے اس کو گھمایااور کنویں کے اُس طرف لے جا کر پھینکا۔ میں نے گاؤں والوں کو کہا کہ اس کی پکڑنہیں ہو رہی تھی مگر اس نے ایک اللہ والے کو کرخت بات کر کے ستایا، بس اس کی پکڑ ہو گئی۔ اتنے دنوں یہ دندناتا پھر رہا تھا، اب اس کی پکڑ ہو گئی ہے، اب آپ فکر نہ کریں، بارشیں بھی ہو جائیں گی، علاقے کا پانی بھی ہو جائے گا۔ تو یہ خوش اخلاقی مفت کی نیکی ہے اور ولایت کا دروازہ کھولنے والی ہے۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ ؂ دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھیں کروبیاں
دعایا بددعا فقط الفاظ نہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ یہ قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دِل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے
فرمایاکہ نفس کا کچلنا مشکل ہوتا ہے۔ نفس کا کچلنا ہو جائے تو انشاء اللہ آپ مال، جان، اولاد ہر چیز میں واضح برکت کو آتادیکھ لیں گے۔ میں ایک جگہ گیا تو وہاں ایک عورت نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب! میرے بچوں کے لئے دُعا کریں۔ میں نے کہا دعا تو میں کروں گا مگر تم بچوں کے والد صاحب کو ستایا مت کرو، کیونکہ مرد نے شکایت کی تھی کہ مجھے بہت ناگوار باتیں کرتی ہے، تلخ باتیں کہتی ہے کیونکہ عورت مالدار ہے، اس کا مال گھر میں چل رہا ہے، میں نے کہا کہ اگر تو بچوں کی ترقی چاہتی ہے تو خاوند کو ستایا نہ کر، میں دعا کروں گا لیکن نسخہ میں نے آپ کو بتا دیاہے۔ بعض مرد کہتے ہیں کہ دعا کرو بچوں کا مستقبل کھلے۔ میں اس سے کہتا ہوں کہ بیوی کو ستایا مت کرو تو تمہارے بارے میں بھی خیر کے حالات آئیں گے۔ ہم نے آپس میں ایک دوسرے کے دِل دُکھائے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ایک دوسرے کے لئے دل سے دعا کی چاہت نہیں ہوتی۔ دُعا الفاظ تو نہیں ہیں جو ہم کہتے ہیں بلکہ دعا قلب کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہمارے دل میں کسی کی خدمت یا اذیت سے پیدا ہوتی ہے۔
ادارۂ اشرفیہ عزیزیہ کی تربیتی ترتیب
درجہ اوّل: تعلیم الاسلام (مفتی کفایت اﷲ صاحبؒ) کا چار پانچ مرتبہ مطالعہ تا کہ مسائل ذہن نشین ہو جائیں ، جہاں سمجھ نہ آئے خودفیصلہ کرنے کی بجائے علماء سے پوچھنا،استعداد اچھی ہو تو اپنے گھر یا مسجد میں چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کو سبقًا سبقًا پڑھنا۔اُم الا مراض، اکابر کا سلوک واحسان،فیضِ شیخ (حضرت مولانا زکریا ؒ (تسہیلِ قصد السبیل ،تسہیل المواعظ ،اصلاحی نصاب (دس رسالوں کا مجموعہ از حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (- درجہ دوم : بہشتی زیور، ملفوظاتِ حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانویؒ) ،اُسوۂ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم (حضرت ڈاکٹر عبدالحئی صاحبؒ) ، آپ بیتی (حضرت مولانا زکریاؒ) ، تذکرۃ الاولیاء (شیخ فریدالدین عطارؒ) اورکیمیائے سعادت (امام غزالیؒ ( درجہ سوم :سلوکِ سلیمانی (حضرت مولانامحمداشرف سلیمانیؒ) تربیت السالک، التکشف، بوادرنوادر، انفاس عیسیٰ، بصائرحکیم الامت (حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (، احیاء العلوم) امام غزالیؒ
جہری ذکر کی احتیاط اور طریقہ
سارے تصوف کے سلاسل کی طرح ہمارے سلسلہ میں بھی ذِکر کو قلب کی اصلاح میں بطور بنیادی ذریعہ شامل کیا گیا ہے ۔سلسلہ کی ترتیب میں چشتیہ صابریہ جہری طریقہ ذِکر، ضرب کے ساتھ اختیار کیا گیا ہے۔ پہلے درجہ میں صرف سو بار لاالہ الا اللّٰہ ،سوبار الااللّٰہ اور سو بار اللّٰہ کا ذِکر کیا جاتا ہے ۔دوسرے اور تیسرے درجہ میں لا الہ الاللّٰہ دو سو بار ،الااللّٰہ چار سو بار اللّٰہُ اللّٰہ چھ سو بار ، اللّہ سوبار کی اجازت دی جاتی ہے۔ کتابوں کا مطالعہ تو ہر کوئی کر سکتا ہے جبکہ جہری ذِکر کی ترتیب کے لیے بیعت ، مشورہ اور اس کے طریقہ کو بالمشافہ(آمنے سامنے) سیکھنا ضروری ہے،خود سے کرنے میں ذہنی و جسمانی نقصان کاخطرہ ہو سکتا ہے۔
ھمارےمتعلق
ھمارےمتعلق

مزید
کتب
کتب

مزید
بیانات
بیانات

مزید
غزالی
غزالی

مزید
Translate »